کاروار6؍فروری (ایس او نیوز) سائبر کرائم کے شعبے میں درج کی گئی ایک شکایت کے مطابق کاروارسے قریب سداشیوگڑھ نامی علاقے میں رہنے والے ایک شخص کے بینک کھاتے سے گزشتہ تین دنوں کے اندر شمالی ہند کی ریاست جھارکھنڈ میں کسی نے 1لاکھ 20ہزار روپے اُڑا لیے ہیں۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق سداشیوگڑھ کے رہنے والے ریٹائرڈ سرکاری ملازم فخرالدین داؤد شیخ کے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے اکاؤنٹ سے یہ رقم چرالی گئی ہے۔تعجب اس بات پر ہے کہ فخرالدین سداشیو گڑھ میں ہی مقیم ہیں اور ان کا ڈیبٹ کارڈ بھی انہی کے پاس موجود ہے۔ اور کسی نے ان سے فون پر بینک کھاتے یا کارڈ کی تفصیلات بھی نہیں دریافت کی تھی۔ پھر بھی ہزاروں کیلومیٹر دور بیٹھے ہوئے فریب کاروں نے نقلی اے ٹی ایم کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے ان کے اکاؤنٹ سے تین دن تک روزانہ چالیس ہزار روپے نکال لیے جس کی وجہ سے جملہ ایک لاکھ بیس ہزار روپوں کا نقصان فخرالدین کو بھگتنا پڑا ہے۔
حالانکہ جیسے جیسے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکالی گئی ہے ، فخرالدین صاحب کو اس سلسلے میں موبائل پر مسیج آیا ہے، لیکن انہوں نے اپنی مصروفیت کی وجہ سے موبائل مسیج دیکھے ہی نہیں تھے۔انہوں نے جب یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ اپنی دسمبر مہینے کی پنشن والی رقم کھاتے جمع ہوئی ہے یا نہیں تو اس وقت اکاؤنٹ سے اتنی رقم نکالے جانے کے بارے میں انہیں معلوم ہوا۔تب انہوں نے کاروار کی ایس بی آئی شاخ میں اپنی شکایت کی تو فخرالدین کا کہنا ہے کہ بینک افسران نے ان کی شکایت کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ان کا کہنا ہے کہ ابھی حال ہی میں نیا اپ ڈیٹ کیا ہوا ڈیبٹ کارڈ انہوں نے بینک سے حاصل کیا تھا۔
اس کا مطلب یہی ہوا کہ بہت ہی محفوظ (سیکیورڈ) کہلانے والے نئے کارڈ سے بھی جعلسازوں نے رقم چرانا شروع کردیا ہے۔ اور یہ بڑی تشویش کی بات ہے۔ اسٹیٹ بینک کے برانچ منیجر رتناکر ہیبار نے بتایا کہ بینک کی طرف سے شکایت درج کرتے ہوئے چھ ایجنسیوں کو اس معاملے کی جانچ کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ سوائپ کرتے وقت اس کی نقل کرنا اور پھر کسی دوسرے مقام سے جعلی کارڈبنواکر اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس لئے کارڈز کا استعمال کرنے والے پوری طرح احتیاط کریں۔